مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مسعود پزشکیان نے سعدآباد کے ثقافتی و تاریخی کمپلیکس میں منعقدہ حکومت کے مختلف ادوار کے شہداء کے معزز اہلِ خانہ سے ملاقات اور ان کی تکریم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انقلابِ اسلامی کے بانی امام خمینی کی پاک روح کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور رہبرِ شہید کی یاد اور شہید لاریجانی، شہید نصیرزادہ، شہید حجت الاسلام خطیب اور دیگر شہدائے انقلابِ اسلامی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزراء، کمانڈروں اور عام شہریوں کی شہادت ایک بہت بڑا نقصان اور ناقابلِ تلافی صدمہ تھا، جو ان لوگوں کی جانب سے ہمارے ملک پر مسلط کیا گیا جو انسانی حقوق اور جمہوریت کے دعوے دار ہیں۔
ایرانی صدر نے انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کے فریب کارانہ رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ برسوں سے اسلامی جمہوریہ ایران کو دہشت گرد اور دہشت گردی کا حامی قرار دیتے آئے ہیں، لیکن انقلابِ اسلامی کی کامیابی سے لے کر آج تک مختلف ادوار میں ہمارے ذمہ داران، کمانڈروں اور سائنس دانوں کو خود انہی لوگوں نے دہشت گردانہ کاروائیوں کا نشانہ بنایا اور شہید کیا۔
انہوں نے نہج البلاغہ کے ایک خطبے کی روشنی میں گمراہ گروہ اور باشعور افراد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں کہ میں گمراہی کا پرچم بلند ہوتا دیکھ رہا ہوں اور اسے بلند کرنے والا معاشرے سے باہر کھڑا ہو کر لوگوں کو گمراہی کی طرف لے جا رہا ہے۔ ایک گروہ اس پرچم کے گرد جمع ہو جاتا ہے، جبکہ وہ باشعور اور آگاہ افراد کو راستے سے ہٹا دیتے ہیں۔
ڈاکٹر پزشکیان نے مزید کہا کہ دشمن بھی اسی بات کی ایک مثال ہیں۔ انہوں نے انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے آغاز سے اب تک ایران کے مخلص اور فداکار افراد کو شہید کیا ہے، تاہم خوش قسمتی سے کچھ افراد اب بھی باقی ہیں۔ البتہ مجرم عناصر منصوبہ بندی کے تحت ذمہ دار اور باشعور افراد کو بھی دہشت گردانہ کاروائیوں کا نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر پزشکیان نے ایرانی عوام کی بیداری اور آگاہی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی معاشرہ اتنا باشعور ہے کہ وہ مکار، مجرم اور استحصالی دشمنوں کے فریب میں نہیں آئے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری بھی پوری کوشش ہے کہ شہداء کے راستے کو جاری رکھیں۔ عوام کی خدمت کے راستے میں ہم خود کو ان سے بالاتر نہیں سمجھتے۔ اس سرزمین پر رہنے والا ہر شخص ہمارا اپنا ہے، کوئی اجنبی نہیں اور ہم اس کے سامنے ذمہ دار اور جواب دہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے کے تمام طبقات کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہم جماعتی، سیاسی اور گروہی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر کام کرتے ہیں، کیونکہ حق اور عدل سے غفلت ہمیں عوام اور اللہ تعالیٰ کی خدمت کے راستے سے دور کر دیتی ہے۔
آپ کا تبصرہ